19

نفرت انگیز تقریر کیس میں الطاف حسین لندن میں گرفتار، فرد جرم عائد

لندن: نفرت انگیز تقریر کے کیس میں بانی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) کو لندن میں گرفتار  کرلیا گیا جس کے بعد ان پر  انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت فرد جرم بھی عائد کردی گئی۔

بانی ایم اکیو ایم کو حراست میں لیے جانے کے بعد ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ پہنچایا گیا جہاں بانی متحدہ کو کورٹ کے سیل میں رکھا گیا۔

بعد ازاں بانی متحدہ کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کے کورٹ نمبر ون میں پیش کیا گیا جہاں سماعت جاری ہے۔

ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ کی موجودہ چیف مجسٹریٹ سینیئر ڈسٹرکٹ جج ایما آربوتھ ناٹ ہیں جو کیس کی سماعت کررہی ہیں۔

کیتھرین سیلبائے کراؤن پراسیکیوشن سروس کی نمائندگی کررہی ہیں جبکہ الطاف حسین کی پیروی ان کے برطانوی وکلاء کررہے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے جج کے سامنے کیس کراؤن پراسیکیوشن سروس کے وکیل نے پیش کیا گیا۔

نفرت انگیز تقریر کے الزام میں ضمانت ختم ہونے پر بانی ایم کیو ایم تیسری بار لندن کے سدک پولیس اسٹیشن میں پیش ہوئے جہاں انہوں نے تیسری بار بھی لندن پولیس کے سوالوں کے جوابات نہیں دیے جس پر انہیں حراست میں لے لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق لندن پولیس نےبانی ایم کیو ایم کو سوالوں کے جوابات دینے کا مشورہ دیا تھا تاہم جوابات نہ دینے اور شواہد کی روشنی میں پراسیکیوشن نے  ان پر فرد جرم عائد کی  ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہناہےکہ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے وکلاء کو آج فرد جرم عائد کیے جانے کا خدشہ تھا جس کے باعث ان کی ضمانت کے کاغذ پہلے سے ہی تیار کرلیے گئے تھے۔

ضمانت منظور نہ ہوئی تو بانی ایم کیو ایم کو چند روز کیلئے ریمانڈ پر جیل بھیجا جاسکتا ہے۔

ذرائع کےمطابق فرد جرم عائد ہونے کے بعد بانی ایم کیوایم کے خلاف ٹرائل تقریباً 2 ہفتے میں مکمل ہوجائے گا۔

واضح رہےکہ بانی ایم کیو ایم پر اگست 2016 میں تقریر کے ذریعے لوگوں کو تشدد پر اکسانے کا الزام ہے، لندن پولیس نے انہیں رواں برس 11 جون کو نفرت انگیز تقریر کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور وہ گزشتہ ماہ 12 ستمبر کو بھی ضمانت ختم ہونے پر سدک پولیس اسٹیشن میں پیش ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں