22

ن لیگ کا مولانا فضل الرحمان کو آزادی مارچ مؤخر کرنے کا مشورہ

مسلم لیگ ن نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو حکومت کے خلاف آزادی مارچ کو مؤخر کرنے کا مشورہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

مسلم لیگ ن کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتو کرتے ہوئے احسن اقبال نے بتایا کہ سی ای سی اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اور وزیراعظم کے یو این اجلاس میں خطاب کا جائزہ لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی غاصبانہ اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہیں اور کشمیری عوام کو مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہیں، مسئلہ کشمیر پر سیاسی تقسیم سے بالاتر ہو کر پوری قوم ایک ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے 50 دن ضائع کیے، وزیراعظم نے کسی ملک کا دورہ تک نہیں کیا۔

رہنما ن لیگ نے کہا کہ حکومت کو انسانی حقوق کونسل میں بدترین سفارتی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، قوم کو 58 ممالک کی حمایت کا کہا گیا لیکن 16 ووٹ نہ حاصل کیے جا سکے۔

حکومتی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت سوشل میڈیا کے ذریعے چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے سیاسی قیادت کو فوری بلانا چاہیے تھا۔

احسن اقبال نے کہا کہ مطالبہ کرتے ہیں وزیراعظم قومی اسمبلی کو اپنے دورے پر اعتماد میں لیں، جو تقریر کی گئی اس پر عمل درآمد کا روڈ میپ بتایا جائے۔

ان کا کہنا تھا بتایا جائے او آئی سی کا سربراہی اجلاس بلانے کے لئے کیا اقدامات کیے گئے، عالمی اداروں کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو کیسے اٹھایا جائے گا، ٹرمپ سے ملاقات کے بارے میں بھی اعتماد میں لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی بگڑتی اقتصادی صورتحال پر سخت تحفظات ہیں، کاروبار بند ہو رہا ہے اور 10 لاکھ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں، حکومت کے پاس اقتصادی ترقی کا کوئی روڈ میپ نہیں ہے، ایسی صورت ایک سال رہی تو ایسا نہ ہو کہ بعد میں کوئی معیشت نہیں سنبھال سکے۔

پنجاب میں ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ڈینگی کو کنٹرول کرنے میں حکومت ناکام ہو چکی ہے، مقامی حکومتوں کا نظام معطل کرنے سے ڈینگی پھیلا، پنجاب دوبارہ ڈینگی زدہ ہو گیا ہے، سیاسی ڈینگی کا بھی شکار ہو چکا ہے۔

رہنما ن لیگ نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے مکالمہ کیا جائے اور جلد ازجلد عام انتخابات کی راہ ہموار کی جائے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پارٹی قیادت بالخصوص نواز شریف کے خلاف انتقامی کاروائیاں جاری ہیں، نواز شریف سیاسی قیدی ہیں، قائد اور دیگر کارکنوں کی رہائی اور حکومت سے نجات کے لیے باقاعدہ مہم چلائی جائے گی۔

جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ مولانا صاحب قریب ترین حلیف ہیں، ان کے ساتھ ہیں، آزادی مارچ میں تعاون کا پہلے کہہ چلے ہیں، ایک کمیٹی قائم کی ہے جو جے یو آئی ف سے مشاورت کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ تقریبا اتفاق رائے ہے کہ نومبر تک آزادی مارچ کو مؤخر کیا جائے، اس وقت تک ن لیگ بھی مکمل فعال ہو جائے گی، جے یو آئی ف کو اے پی سی کا مشورہ بھی دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی مشاورت کرے گی، جے یو آئی ف کے ساتھ آزادی مارچ کے لیے تاریخ کے تعین پر بھی مشاورت کی جائے گی۔

احسن اقبال نے کہا کہ عوام کو پتہ چل گیا ہے کہ ان کے ساتھ تبدیلی کے نام پر دھوکا ہوا، مسلم لیگ ن حکومت کو گرانے کی ہر تحریک میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرے گی۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں