34

کشمیری کرفیو اور پابندیاں توڑ کر سڑکوں پر نکلیں: حریت فورمز

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں مسلسل بارہویں روز بھی کرفیو برقرار ہے اور قابض فوج نے کئی مقامات پر کشمیریوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے روک دیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وادی میں مسلسل بارہویں روز بھی ٹیلی ویژن، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔

رپورٹ کے مطابق کرفیو کے باعث کشمیری مسلمانوں کو مسجد جانے سے روکنے کی بھی اطلاعات ہیں۔

حریت فورمز، وکلا، صحافیوں، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز نے کشمیری عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی مظالم کے خلاف مقبوضہ جموں و کشمیر اور کارگل میں اپنے حق کے لیے گھروں سے باہر نکلیں۔

حریت فورمز نے اپنے بیان میں لوگوں سے کرفیو اور پابندیاں توڑنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کشمیریوں کی زمین ہے اور وہی اس کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کو بچانے کے لیے بغیر کسی تاخیر کے مداخلت کریں۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی نے بھارتی وزیرداخلہ امت شاہ کو خط لکھا ہے کہ جب بھارت یوم آزادی منا رہا تھا کشمیری بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم کرکے جانوروں کی طرح قید میں تھے۔

انہوں نے لکھا کہ انہیں اپنے گھر سے باہر ایک قدم نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا تھا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔

راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے تھے۔ بھارت نے 6 اگست کو لوک سبھا سے بھی دونوں بل بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں