60

افغان لوگوں کوقتل کرنیکا بیان،اشرف غنی نے ٹرمپ سے وضاحت مانگ لی

کابل: ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے افغانستان میں ’’ایک کروڑ لوگوں کو قتل نہیں کرنا چاہتے‘‘ کے بیان کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے امریکی صدر سے وضاحت مانگ لی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ امریکا کو ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانستان سے متعلق اس بیان پر وضاحت کرنی چاہیے جس میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ باآسانی جنگ جیت سکتے ہیں لیکن وہ ’ایک کروڑ لوگوں کو قتل نہیں‘ کرنا چاہتے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے پاس پاس افغان تنازع کے جلد حل کے لیے منصوبے تھے لیکن اس سے یہ ملک ’صفحہ ہستی سے‘ مٹ جاتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ افغانستان ’ختم ہوجائے گا اور واقعی 10 دن میں ختم ہوجائے گا لیکن میں اس راستے پر جانا نہیں چاہتا اور لاکھوں لوگوں کو قتل نہیں کرنا چاہتا۔

دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد افغانستان میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے، امریکی فوج کے انخلا سے متعلق افغان شہری پہلے ہی بہت پریشان ہیں کہ آیا ملک دوبارہ طالبان حکومت اور خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

افغان صدر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت امریکی صدر کے پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران اظہار کیے گئے خیالات پر سفارتی ذرائع اور چینلز کے ذریعے وضاحت کا مطالبہ کرتی ہے۔ دوسری انہوں نے امریکا کی جانب سے طالبان کیساتھ امن مذاکرات کو مسلسل درکنار کرنے پر غصے کا اظہار کیا۔

اشرف غنی کا کہنا تھا کہ افغان حکومت ملک میں قیام امن کیلئے امریکی کوششوں کی حمایت کر رہی ہے تاہم حکومت یہ سمجھتی ہے کہ غیرملکی سربراہان مملکت افغان قیادت کی غیرموجودگی میں افغانستان کی قسمت کے فیصلے کا تعین نہیں کرسکتی۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں