19

معاشی بدحالی ، آرمی چیف کی قابل عمل تجویز


محمد حفیظ خان
پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک کی معاشی بدحالی کو بجا طور پر محسوس کیا ہے اور اس میں بہتری کے لئے جو حل تجویز کیا ہے اب اس پر عمل کرنا سب سے پہلے حکمران جماعت کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا بالکل بجا ہے کہ معاشی خودمختاری کے بغیر آزادی کا تصور بے معنی ہے۔حکومت نے طویل مدتی فوائد کے لئے بہت مشکل فیصلے کیے ہیں۔آرمی چیف کے بقول ماضی میں مشکل فیصلے نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہوا۔ ان کے بقول ملک نہیں خطے ترقی کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب بھارت کے ساتھ تعلقات کی نوعیت بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔سب سے پہلے تو ہمارے وزیر اعظم صدر پاکستان،وفاقی وزیر ،اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی حکومتوں کو نئے سرے سے اس جانب توجہ دینا ہوگی۔جن مشکلات کا ذکر سپہ سالار فوج نے کیا ہے ان کو حل کرنے کے لیے حکمرانوں کے کردار کو ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھا جائے گا۔اب تک جو کچھ بھی کہا یا کیا جا رہا ہے اس سے نہ تو ملک کو فائدہ ہو رہا ہے اور نہ ہی عوام کے حالات میں بہتری کی کوئی امید پیدا ہو رہی بلکہ مہنگائی اور بیروزگاری نے پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اگر حکمران اور طبقہ امرائ اپنی زندگی میں سادگی لائیں گے اور مفادات کی تقسیم میں عوام کو بھی حصہ دار بنائیں گے تو یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ملک کے حالات میں خوشگوار تبدیلی آئیگی۔جنرل قمر جاوید باجوہ کی اس بات سے پوری قوم اتفاق کرتی ہے کہ ملک مشکل معاشی حالات سے دوچار ہے اور حکومت نے جو مشکل فیصلے کیے ہیں ان کو کامیاب بنانا سب کی یکساں ذمہ داری ہے۔یہ سچ ہے کہ کوئی بھی شخص انفرادی طور پر ملک کے مسائل حل نہیں کر سکتا اس کے لئے پوری قوم کا اتحاد اور اتفاق رائے ضروری ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت میں بیٹھے ہوئے لوگ اتفاق رائے کے لئے کون سا تعمیری کردار ادا کر رہے ہیں۔گذشتہ ایک ماہ سے ہم حکمرانوں کو یہ باور کرانے کی مخلصانہ کوشش کر رہے تھے کہ کہ ایمنسٹی سکیم کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں ہے۔ٹیکس چوری کرنے اور ناجائز اثاثے خفیہ یا بے نامی رکھ کر جو لوگ ملک اور قوم کے لئے شدید معاشی نقصان کا باعث بنتے ہیں ان کے لیے ساری دنیا میں سخت سزا ہوتی ہے نہ کہ ان کو بار بار سہولت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے ناجائز اثاثے ظاہر کریں اور معزز ترین لوگوں میں شامل ہو جائیں اب اگر حکومت اپنے اس پروگرام کوی تاریخ میں اجافہ چاہتی ہے تو نیا آرڈیننس لانا ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کا اقدام ان لوگوں کے ساتھ زیادتی تصور کیا جاتا ہے جو باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں اور ملک کی معیشت ان کے ٹیکس سے رواں دواں رہتی ہے۔اب تو آئی ایم ایف کی جانب سے بھی کہہ دیا گیا ہے کہ ایمنسٹی دیانت دار ٹیکس گذاروں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اس سے ملک کی معیشت بہتر نہیں ہوتی آئی ایم ایف حکام نے حکومت کی ٹیکس ایمنسٹی سے اصولی اختلاف کا اظہار کر دیا ہے۔ایف بی آر کو برا بھلا کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا کیونکہ جو ٹیکس کی کولیکشن ہوتی ہے یہ بھی تو ایف بی آر کی شبانہ روز محنت اور سچی لگن کے ساتھ کام کرنے والے فرض شناس افسران کی وجہ سے ہے۔اگرچہ کچھ لوگ بدعنوانی کرتے اور کراتے ہوں گے لیکن یہ سسٹم کی خرابی نہیں بلکہ ایک مخصوص ذہنیت ہے جس نے کسی بھی جگہ بیٹھ کر کرپشن ہی کرنی ہے۔ہمارے سرکاری اداروں میں ایماندار اور فرض شناس لوگوں کو اعلی ترین ذمہ داریاں دی جانی بہت ضروری ہو گئی ہیں تاکہ مثبت نتائج حاصل کرنا آسان ہو جائے اور ہمارا ملک جس شدید ترین معاشی بحران سے دوچار ہو گیا ہے اس سے کامیابی کے ساتھ نکلنے کی صورت اور امید پیدا ہو سکے۔حکمرانوں کا رویہ ایسا ہے کہ جیسے وہ اپوزیشن میں بیٹھے ہیں۔ ہر ایک کے ساتھ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔پارلیمنٹ کے اندر اور باہر الزامات کی بھرمار کے ساتھ گذشتہ حکومتوں بالخصوص مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی پر دشنام طرازی کی جا رہی ہے۔یہ کون سا طرز حکومت ہے کہ اپنا کام نہیں کرنا اور سابقہ ادوار حکومت پر تنقید کرتے رہنا ہے۔ہمیں قوی امید ہے کہ اب حکومت میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی عقل بہتر کام کرے گی کیونکہ آرمی چیف نے جس قومی اتحاد کی بات کی ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ حکمران اپنی زبان کم اور استعداد کار کی صلاحیت کو زیادہ استعمال کریں تاکہ ملک کے معاشی اور سیاسی معاملات بہتر اندازمیں آگے بڑھائے جا سکیں چیخنے،چلانے اور الزامات لگانے سے ملک کی معیشت اور عوام کی حالت میں اچھی تبدیلی نہیں آئے گی بلکہ مایوسی اور اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔عوام حکومتوں سے ان کی حسب وعدہ کارکردگی کا مطالبہ کرتے ہیں اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔جہاں تک ملک کے انتہائی تکلیف دہ معاشی بحران کا تعلق ہے تو اس کا حل کوئی مشکل یا ناممکن نہیں ہے لیکن افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ حکومت میں ہمیشہ فرنٹ فٹ پر وہ لوگ آجاتے ہیں جن کی اولین ترجیع ملک اور قوم کے مسائل حل کرنے کی بجائے مخصوص و محدود لوگوں کو جمع کرنا ہوتا ہے۔یہ سب مل کر ذاتی اور گروہی مفادات کی تکمیل میں لگ جاتے ہیں۔اہل علم،ماہر معاشیات،ملک کی سیاست اور معیشت کو سمجھنے اور عملی سطح پر کام کرنے والے کامیاب ترین لوگ ان کے تماشے دیکھ دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں کی ملک کی باگ ڈور کیسے غیر سنجیدہ افراد کے پاس آگئی ہے جو نہ ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں کردار ادا کرتے ہیں اور نہ ہی تجربہ کار اور اہل ترین لوگوں کو آگے آنے دیتے ہیں۔یہ صرف اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ چیک اینڈ بیلنس کانظام عملی طور پر کام نہیں کر رہا۔ملک کے معاشی حالات میں فوری بہتری کے لئے پاکستان کے تمام اضلاع میں قائم چیمبرز اور ایف پی سی سی آئی ،کامیاب کاروبار اور تجارت سے وابستہ تنظیمیں اگر کامل ایمانداری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو پاکستان کی معیشت بہت ہی کم عرصہ میں بلندی کی جانب جا سکتی ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ تاجروں کی نمائندہ تنظیمیں اور چیمبرز میں موجود مخصوص لوگ صرف اپنے ذاتی مقاصد کے لئے حکومے کے لوگوں کے ساتھ گٹھ جور کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے تاجر اور کاروباری برادری کے اصل مسائل اور معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی ہوتی ہے۔جب تک حکومت تاجر برادری کی حقیقی نمائندگی کی حوصلہ افزائی اور خود تاجر و صنعتکار بھی تجربہ کار اور ملکی ترقی میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے پیشہ ور افراد کی قیادت میں متحد نہیں ہو گی اس وقت معاشی اہداف کا حصول ممکن دکھائی نہیں دیتا۔امید ہے کہ پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں چیمبرز اور تاجر تنظیمیں اپنے حقیقی نمائندگان کے ذریعے ملک کی موجودہ مشکل معاشی صورتحال کو بہتر بنانے میں اپنا کردار مثبت اور جاندار طریقے سے ادا کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی اس بات کو سچ ثابت کر دکھائیں گے کہ ملک کی معاشی مشکلات کو حل کرنے کے لیے سب کو متحد ہو کر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا۔ان شاء اللہ پاکستانی قوم ان مشکلات سے سر خرو ہو کر نکلے گی۔ اور وطن عزیز پاکستان ترقی کی منازل طے کر گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں