151

استحصالی نظام اور ریاست مدینہ

تحریر:
راجہ محمد علی منہاس


دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو عہدے دولت اور دنیا سے محبت کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو مخلوق خدا سے محبت رکھتے ہیں پہلی قسم والے اپنی جاہ و حشمت دولت اور عہدے کی بناء پر اپنی زندگیوں کو بہترین اور شاہانہ انداز میں گزارتے ہیں زندگی کی تمام خواہش کو پورا کرنے کی بھی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اسی اثناء میں دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں دوسرے وہ ہیں جو خدا کی تخلیق کردہ مخلوق سے محبت کرتے ہیں اور انکی مشکلات میں انکے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں انکی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے چہروں پر ایک پرسکون اور اطمینان بخش مسکراہٹ بھکیر سکیں کیونکہ ایسے لوگوں کی خوشی دوسرے لوگوں کی خوشی میں ہی ہوتی ہے ان میں سے بھی بیشتر ایسے ہوتے ہیں جنکے پاس بےپناہ دولت بڑا عہدہ اور جاہ و حشمت جیسی خصوصیات بھی پائ جاتی ہیں لیکن یہ لوگ اپنے عہدے جاہ و حشمت اور سرمائے کو دوسرے لوگوں یا اگر یوں کہا جائے کہ متوسط غریب اور سفید پوش طبقہ کی بہتری کے لیے بروئے کار لاتے ہیں تو بےجا نہ ہو گا اور پھر یہ دوسری قسم کے لوگ بھی دنیا سے رخصت ہوتے ہیں اب فرق صرف اتنا سا ہے کہ جب پہلی قسم والے لوگ دنیا چھوڑ کر جاتے ہیں تو انکے بعد انکا نام لیوا کوئ نہیں ہوتا اور کوئ انھیں یاد نہیں کرتا جبکہ دوسری قسم والے لوگ جب دنیا سے رخصت پاتے ہیں تو لوگ انھیں بہت اچھے الفاظ میں نہ صرف یاد رکھتے ہیں بلکہ انھیں زبردست طریقے سے خراج عقیدت و تحسین بھی پیش کیا جاتا ہے۔
اب یہاں ایک بات بالکل صاف اور سچی حقیقت ہے کہ ایک طبقہ ان سرمایہ داروں عہدداروں اور جاہ و حشمت والوں کا ہے جو اپنی طاقت اور سرمائے کے بل بوتے پر اس دنیا میں جو چاہتے ہیں کرتے ہیں انکا مقصد حیات صرف انکی انفرادی زندگی اور اس سے منسلک عیش و آرام سے ہوتا ہے اسکے لیے اگر انھیں کسی کا حق بھی مارنا پڑے تو دریغ نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ جب وہ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو لوگ انھیں تیزی سے بھلا دیتے ہیں اور کچھ وقت گزرنے کے بعد ایسے لوگوں کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ لوگ جو مخلوق خدا کی خدمت کرنا اپنا شعار بناتے ہیں انھیں خوشی سکون اور اطمینان دینے کی وجہ بنتے ہیں وہ دنیا سے چلے بھی جائیں تو صدیوں لوگ انکا ذکر خیر جاری رکھتے ہیں اور وہ لوگوں کے دلوں میں تادیر زندہ رہتے ہیں اسکی بہت سی مثالیں موجود ہیں مثال کے طور پر بلاؓل حبشی کا نام آج بھی دنیا عزت و احترام سے لیتی ہے لیکن جو شخص بلاؓل حبشی پر ظلم و ستم روا رکھا کرتا تھا اسے آج بھی دنیا نہیں جانتی اسی طرح اگر بدر و کربلا والوں کا حوالہ دیا جائے تو بالکل غلط نہیں ہوگا کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ بدر اور کربلا میں استحصالی ٹولا اپنے کالے کرتوتوں کی بناء پر دنیا اور تاریخ انسانی سے مٹا دیا گیا لیکن وہ آج بھی زندہ و جاوید ہیں جنھوں نے صدیوں پہلے مخلوق خدا کا استحصال کرنے والوں کو للکارا تھا اسی طرح اگر عہد حاضر یا ماضی بعید و قریب کی مثال دوں توقائد اعظم محمد علی جناح سرسید احمد خان فیڈل کاسترو چی گویرا ذوالفقار علی بھٹو ماوزےتنگ نیلسن منڈیلا محترمہ بینظیر بھٹو یہ وہ قابل ذکر نام ہیں جنھوں نے اس استحصالی معاشرے میں مظلوموں محکوموں اور پسے ہوئے طبقات کی نمائیندگی کرتے ہوئے دنیا کے سرمایہ داروں کو یہ باور کروایا کہ اس معاشرے اور دنیا میں بسنے والے تمام لوگوں کے حقوق برابر ہیں آزادی اظہار رائے جو سلب نہیں کیا جا سکتا مساوات پربنی معاشرہ ہی حقیقی تبدیلی اور پرامن دنیا کی ضمانت ہے انقلاب فرانس کیا تھا اور دنیا کے دیگر انقلابات نے جو جنم لیا انکے مقاصد کیا تھے یہی ناں کہ آزادی اور مساوات کا بول بالا ہو۔ کوئ جابر ظالم طاقت ور کسی مظلوم بےبس اور کمزور پر ظلم نہ کر سکے پاکستان کیوں بنا؟ کہ یہاں بسنے والوں کو اپنی زندگیاں انکے مذاہب قوم قبیلے اور انکے رواجوں کے مطابق آزادی سے گزار سکیں لیکن بعد میں کیا ہوا؟ دنیا بھر میں کسی بھی انقلاب کی بنیاد آزادی اور مساوات کے تصوررات پر ہی رکھی جاتی رہی ہے اب پاکستان میں بھی موجودہ تبدیلی کی بنیاد بھی اسی بات پر رکھی گئ تھی کہ لوگوں کو انکے حقوق ملنے چاہیں کروڑوں بےروزگاروں کو روزگار مہیا کیا جائے گا لاکھوں بےگھر لوگوں کو گھر بنا کر دیے جائینگے مختصر یہ کہ موجودہ پاکستانی تبدیلی کو ریاست مدینہ سے تشبیہ دی گئ ہے اور کہا جاتا ہے کہ ریاست مدینہ اب پاکستان میں قائم ہو چکی لیکن سوال یہ کہ ریاست مدینہ میں کسی چور ڈاکوں لٹیرے کو ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے اپنی ناجائز ذرائع سے بنائ گئ دولت کو جائز قرار دلوانے کی کوئ پیشکش کی گئ تھی؟ ریاست مدینہ میں بدعنوانی کے الزامات والی شخصیات کو امور سلنطنت میں اہم ذمہ داریاں دی گئ تھیں؟ ریاست مدینہ کے حکمران لوگوں پر مہربان تھے یا انھیں انکی بنیادی ضروریات سے بھی محروم رکھنے کی کوشش میں رہتے تھے؟ ریاست مدینہ میں خلیفہ وقت عام شہریوں کے سوالوں کے جواب دینے کے پابند رہے ہیں یا عوام سے دوری اختیار کرنا انکا وطیرہ رہا ہے؟ آج تمام ذی شعور اور صاحب رائے اشخاص اس پر غور فکر ضرور کیجیے گا کہ اگر موجودہ تشبیہ شدہ ریاست مدینہ ان تمام سوالوں کے جوابات پر پوری اترتی ہے تو ٹھیک ورنہ مجھے بڑے رنج سے لکھنا پڑے گا کہ جسطرح قیام پاکستان کے مقاصد سے روح گردانی کی گئ بالکل اسی طرح تبدیلی کے تمام وعدوں اور دعوں سے بھی انحراف کیا جارہا ہے اور بھونڈی تبدیلی کے نام پر عوام اور ریاست پاکستان کو مذید مشکلات میں مبتلاء کیا جا رہا ہے آج جس بے حسی کے ساتھ ملک و قوم کو بے رحم سرمایہ داروں اور طاقت ور عہدداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اس سے پہلے شائد دنیا میں اسکی کوئ مثال نہیں ملتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں