82

وفاقی حکومت نے 70 کھرب 22 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی سال 20-2019 کے لیے تقریباً 50 فیصد خسارے کا بجٹ پیش کر دیا جس کا کُل تخمینہ 70 کھرب 22 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ہونے والے بجٹ اجلاس میں وزیر مملکت برائے ریوینیو حماد اظہر نے مالی سال 20-2019 کا بجٹ پیش کیا جب کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔بگریڈ ایک سے 16 تک کے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد ایڈہاک اضافے کی تجویز

گریڈ 21 اور 22 کے سول ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں

ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں بھی دس فیصد اضافے کی تجویز

ملک میں کم سے کم تنخواہ 17500 روپے کرنے کی تجویز

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا وظیفہ 5 ہزار روپے سے بڑھا کر 5500 کرنے کی تجویز

دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے برقرار رہے گا

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 45.5 ارب روپے تجویز

قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 18 کھرب روپے مختص کرنے کی تجویز

اعلیٰ تعلیم کے لیے 45 ارب روپے روپے مختص

وزیراعظم سمیت وفاقی کابینہ کا تنخواہوں میں 10 فیصد کمی کا فیصلہ

وفاقی بجٹ کا خسارہ 35 کھرب 60 ارب روپے رکھا گیا ہے

بجٹ تقریر میں وزیر مملکت برائے ریوینیو حماد اظہر کا کہنا تھا کہ جب حکومت ملی توپاکستان کا قرضہ اور ادائیگیاں 31 ہزار ارب روپے تھیں اور 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ تھا۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سال کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے گر کر 10 ارب ڈالر تک رہ گئے تھے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا معاہدہ ہو چکا ہے، بورڈ کی منظوری کے بعد اس منصوبے پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا، معیشت کو استحکام حاصل ہو گا اور سالانہ ترقی کی شرح میں اضافہ ہو گا۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے فوری ادائیگی کے بعد 3.2 ارب ڈالر کا تیل درآمد کرنے کی سہولت حاصل کی گئی جب کہ اسلامی ترقیاتی بینک سے فوری ادائیگی کے بعد تیل درآمد کرنے کی سہولت شروع کر دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 7 ارب ڈالر اور اگلے سال ساڑھے 6 ارب ڈالر کی کمی آئے گی جب کہ گردشی قرضے 38 ارب روپے سے کم ہو کر 24 ارب روپے رہ گیا ہے۔

سول اور دفاعی بجٹ میں کمی

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ کفایت شعاری مہم کے تحت سول اور عسکری اداروں کے بجٹ میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سول حکومت کا سالانہ بجٹ 460 ارب سے کم کر کے 437 ارب روپے کیا گیا ہے جو کہ 5 فیصد بنتا ہے جب کہ دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے مستحکم رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انسداد کرپشن مہم

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ ایک لعنت ہے جس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے اور معیشت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے نیا نظام تجویز کیا جا رہا ہے، مرکزی بینک کو افراط زر کو قابو میں رکھنے کے لیے مانیٹری پالیسی بنانے کے لیے وسیع تر خودمختاری دی جار رہی ہے۔

تنخواہوں میں اضافہ

وفاقی وزیر مملکت نے بتایا کہ کم سے کم تنخواہ 17500 روپے مقرر کی گئی ہے جب کہ گریڈ ایک سے 16 تک کے تمام سرکاری ملازمین کو بنیادی تنخواہ پر 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا، پاک فوج کے ملازمین کی تنخواہوں میں 2017 کے ایڈہاک کے تحت 10 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ گریڈ 17 اور 22 کے سول ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ کابینہ کے تمام وزراء نے رضاکارانہ طور پر اپنی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔

کامیاب جوان پروگرام

وزیر مملکت نے بتایا کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت 100 ارب تک کے سستے قرض دیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ صنعتی شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے مراعات دے رہے ہیں جب کہ بجلی اور گیس کے لیے 40 ارب روپے کی سبسبڈی، برآمدی شعبے کے لیے 40 ارب روپے کا پیکج، لانگ ٹرم ٹریڈ فنانسگ کی سہولت برقرار رکھی جائے گی۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ روزگار پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم کے 50 لاکھ گھروں کے پروگرام سے 28 صنعتوں کو فائدہ ہو گا۔

انہوں نے بتایا کہ سستے گھروں کی تعمیر کے پروگرام کے لیے لاہور، کوئٹہ، پشاور اور اسلام آباد میں زمین لے لی گئی ہے جس کے لیے سرمایہ کاری کے انتظامات کر رہے ہیں، یہ سلسلہ ملک بھر میں پھیلے گا، اس سے معیشت کا پہیہ چلے گا۔

حماد اظہر نے کہا کہ پہلے مرحلے میں پنڈی اور اسلام آباد کے 25 اور بلوچستان میں ایک لاکھ 10 ہزار ہائوسنگ یونٹ کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زرعی ٹیوب ویل پر 6.85 روپے فی یونٹ کے حساب سے رعایتی نرخ پر بجلی فراہم کی جائے گی۔

حماد اظہر نے کہا کہ ایل این جی سے چلنے والے دو گھروں اور چند چھوٹے اداروں کی نجکاری کی جائے گی جس سے 2 ارب ڈالر جمع ہوں گے۔

کراچی پیکج

وزیر مملکت برائے ریوینیو حماد اظہر کا کہنا تھا کہ کراچی کے 9 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 45.5 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 152 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

ٹیکس وصولی

وزیر مملکت کا گزشتہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا تھا کہ پچھلی حکومت نے اضافی ٹیکس ریلیف فراہم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 22 کروڑ آبادی ميں 19 لاکھ ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہیں جن میں سے صرف 43 ہزار اپنے گوشواروں کے ساتھ ٹیکس ادا کرتے ہيں۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے ذریعے 5500 ارب روپے کا ریوینیو متوقع ہے جس میں سے 3255 ارب روپے صوبوں کو جائیں گے جب کہ وفاقی بجٹ کا خسارہ 3560 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

قومی ترقیاتی پروگرام

حماد اظہر نے بتایا کہ رواں برس قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1800 ارب تجویز کئے گئے ہیں جس میں سے 950 ارب روپے وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے مختص ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی زمین حاصل کرنے کے لیے 30 ارب روپے اور مہمند ڈیم کے لیے 15 ارب تجویز کیے جا رہے ہیں۔ داسو ڈیم کے لیے 55 ارب رکھے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سڑک اور ریل کے کچھ منصوبے سی پیک کا حصہ ہیں، اس غرض سے 200 ارب تجویز کیے گئے ہیں جن میں سے 156 ارب نیشنل ہائی وے سے خرچ ہوں گے۔

وزیر مملکت نے بتایا کہ ترقیاتی بجٹ میں صحت، غذائیت اور پینے کے صاف پانی کے حصول کے پروگرام کے لیے 93 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں جب کہ انسانی ترقی کے لیے 60 ارب اور اعلیٰ تعلیم کے لیے 45 ارب روپے کا ریکارڈ فنڈ رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کے حوالے سے 80 ارب روپے تجویز کر رہے ہیں، وفاقی ترقیاتی پروگرام میں زراعت کے لیے 12 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے 10.4 ارب روپے سے کوئٹہ پیکج کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں