146

مقبوضہ کشمیر،شہیددو نوجوان سپرد خاک،مختلف واقعات میں فوجیوں سمیت3ہلاک،2زخمی،10گرفتار

سرینگر(اے ایف بی ) مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے دونوجوانوں کو ان کے آبائی قبرستانوں میں ہزاروں سوگواران کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے جبکہ مختلف واقعات میں فوجیوں سمیت3ہلاک،2زخمی،10گرفتار کر لئے گئے ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز بھارتی فوج ،پولیس اور پیرا ملٹری فورسز نے ضلع شوپیاں میں مشترکہ آپریشن کے دوران دو نوجوانوں کو شہید کر دیا تھا ۔قابض بھارتی فورسز کے مطابق ربن زینہ پورہ شوپیان نامی گاﺅں کا فسٹ آر آر، پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ اور178بٹالین سی آر پی ایف نے گھیرے میں لیا اور جنگجو مخالف آپریشن کیا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ ربن زینہ پورہ کا ایک نوجوان نواز احمد وگے ولد مرحوم غلام قادر وگے درمیانی شب ہی اپنے چاچا غلام حسن وگے کے گھر آیا تھا اور اسکے ساتھ بٹھنور لتر پلوامہ کا یاور احمد وانی ولد علی محمد بھی تھا۔لیکن دوران شب ہی فورسز نے محاصرہ کیا جس کے بعد فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ رات کے 3بجے محاصرہ کیا گیا اورصبح کے 4بجکر 25منٹ پر آپریشن کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد مجاہدین اور فورسز میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔صبح قریب ساڑھے 5بجے دونوں مجاہد مکان سے باہر آئے اور محاصرہ توڑنے کی کوشش کی تاہم جب وہ ناکام ہوئے تو مورچہ زن ہو کر فائرنگ کرتے رہے جس کے بعد طرفین کے درمیان مختصرجھڑپ ہوئی جس میں دونوں شہید ہوگئے۔اس دوران غلام حسن وگے کے مکان کو جزوی طور نقصان پہنچا۔پولیس نے آپریشن کے بارے میںکہا عسکریت پسندوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز اورپولیس نے جونہی شوپیاں کے ربن زینہ پورہ نامی گاﺅں میں تلاشی آپریشن شروع کیا، اس دوران گاﺅں میں محصور مجاہدین نے حفاظتی عملے پر فائرنگ شروع کی۔ چنانچہ سیکورٹی فورسز نے پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں 2 مجاہد شہیدگئے ، جن کی شناخت نواز احمد وگے ولد غلام قادر ساکن ربن زینہ پورہ شوپیاں اور یاور وانی ولد علی محمد ساکن بٹہ نور لتر پلوامہ کے بطور ہوئی ۔پولیس کے مطابق مہلوک عسکریت پسند ،عسکری تنظیم البدر مجاہدین کے ساتھ وابستہ تھے۔ پولیس کے مطابق جاں بحق عسکریت پسند سیکورٹی فورسز پر حملوں عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں اور دیگر سرگرمیوںمیں ملوث رہ چکے ہیں۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ جھڑپ کی جگہ اسلحہ و گولہ باروداور قابلِ اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔ پولیس نے کہا کہ یہ دونوں جنگجو عباس گروپ کیساتھ وابستہ تھے، جو 17سالہ طالب علم اور نانوائی کے قتل میں ملوث ہے۔ جس میں نانوائی کو بیدردی کیساتھ ذبح کیا گیا۔دونوں کی لاشیں بعد میں لواحقین کے حوالے کی گئیں اور انہیں اپنے آبائی دیہات میں لیجایا گیا۔اس دوران شوپیان اور پلوامہ میں کچھ گھنٹوں کیلئے انٹر نیٹ سروس معطل کی گئی تاہم بعد میں اسے بحال کیا گیا۔پلوامہ، اچھن، لتر، اگلر اور دیگر علاقوں میں اگرچہ ہڑتال کی گئی اور سیکورٹی سخت کی گئی تاہم شوپیان قصبہ میں جزوی ہڑتال ہوئی۔نواز احمد وگے ساکن ربن کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے اور انکی 3بار نماز جنازہ پڑھائی گئی۔اس موقعہ پر اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے گئے اور جلوس نکالا گیا۔بعد میں انہیں سپرد لحد کیا گیا۔انکی ہلاکت پر زینہ پورہ، ربن، ترکہ وانگام اور مول وغیرہ علاقوں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔نواز احمد اردو مضمون میں ماسٹرس کررہا تھا جب اس نے روال سال جون کے مہینے میں قلم چھوڑ کر بندوق اٹھائی۔ادھریاور احمد وانی، جس نے اگست 2018 میں جنگجوﺅں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی ،کی میت جب اسکے آبائی گاﺅں لائی گئی تو یہاں بھی لوگوں کی بھاری تعداد موجود تھی جنہوں نے انکی نماز جنازہ میں شرکت کی۔اس دوران مختلف علاقوں میں شہری ہلاکتوں کےخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔اس دوران کاروباری مراکز اور تجارتی ادارے بند رہے ۔انٹر نیٹ اور موبائل سروس بھی معطل رہی ۔اس دوران مختلف علاقوں میں مظاہروں کے دوران فورسز اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں