254

نیا پاکستان یہاں سب کچھ بِکے گا

تحریر: راجہ محمد علی منہاس

میں موجودہ حکومت کے بارے ابھی کچھ بھی نہیں لکھنا چاہتا تھا کیونکہ میرے ملک کی نامزد( selected) وزیراعظم محترم عمران احمد خان نیازی صاحب نے اپنی پہلی تقریر میں بطور وزیر اعظم پاکستان یہ کہا ہے کہ تاریک انصاف کی حکومت ابتدائ سو دن میں ملک بھر میں حقیقی تبدیلی لائے گی پچاس لاکھ گھر بنائے جائینگے اور ایک کروڑ نئ نوکریاں پاکستانی نوجوانوں کو فراہم کی جائینگی لوگوں کو تعلیم صحت اور معاشی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائ جائے گی۔اور ایک نیا پاکستان تبدیلی کا سفر شروع کریگا۔
اب میرے ہر دلعزیز ہم وطنوں اس ملک کے نامزد(selected) وزیراعظم کی نااہلیت اور انکی بلکل نکمے وزیروں کی حرکات نے آج یہ تحریر لکھنے پر مجبور کیا ۔
تو نئے پاکستان میں تبدیلی کا آغاز کچھ بھینسوں اور ایک عدد کٹے کی فروخت سے ہوا جو وزیراعظم کی پندرہ کروڑ مالیت کی گاڑیوں کی فروخت سے ہوتا ہوا اب ریاستی اداروں کی فروخت اور نجکاری تک پہنچا ہے آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا اللہ اس ملک پاکستان پر اپنا رحم نازل فرماے آمین۔
اب کوئ تاریک انصاف کے حکمرانوں سے پوچھے کہ پندرہ کروڑ کی گاڑیاں بیچنے کے لیے آٹھ کروڑ کے اشتہارات دینا کہاں کی عقلمندی ہے پہلے یوٹیلٹی اسٹورز کے خاتمے کی خبریں سرگرم رہیں اور آج ریاست پاکستان میں حکومتی وزیر اطلاعات موصوف فواد چوہدری صاحب نے ببانگ دھل پاکستان کے پہلے اور اہم ترین ادارے ریڈیو پاکستان کی فروخت کا باضابطہ اعلان بھی میڈیا پر سنا دیا اور میں اسوقت محترم فواد چوہدری صاحب کے مبارک چہرے کو دیکھ رہا تھا کہ جس پر شرم احساس اور ذمہ داری کے آثار بالکل بھی نمایاں نہیں تھے بلکہ وہ ایسے ریڈیو پاکستان جیسے انتہائ اہم ادارے کی فروخت کا اعلان کر رہے تھے جیسے کرکٹ ٹیم کی بھارت سے شاندار کامیابی کا اعلان فرما رہے ہوں ۔
کوئ تو عقل والا تاریک انصاف کے ان نام نہاد غیر ذمہ دار وزراء اور غیر سنجیدہ وزیراعظم صاحب کو سمجھاو کہ ریڈیو پاکستان محض ایک عمارت ہی نہیں ہے بلکہ پاکستان کی سنہری تاریخ کا ایک بڑا حصہ اس ادارے سے منصوب ہے۔ ریڈیو پاکستان کے ذریعے ہی پاکستان بننے کا پہلا باقاعدہ اعلان کیا گیا اور بانی پاکستان بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے بحثیت پہلے گورنر جنرل پاکستان اپنا پہلا باقاعدہ خطاب بھی قوم سے ریڈیو پاکستان کے ذریعے ہی کیا ۔جس میں انھوں نے یہ بات واضع کی کہ ہمیں بہت محنت لگن دیانتداری اور جسجتو سے پاکستان میں اداروں کو بنانا ہو گا اور قائد اعظم نے اس ضمن میں ریڈیوپاکستان کی اہمیت و افادیت پر بھی سحر حاصل گفتگو فرمائ ۔
آج ریڈیو پاکستان جو کہ پاکستان کی شناخت ہے پہچان ہے اور اس ادارے میں سینکڑوں ہزاروں پاکستانیوں کے بچوں کا مستقبل جڑا ہے ان تمام امیدوں معصوم خواہشوں اور قائد اعظم کے خواب کا قتلِ عام کرنے میں تاریک انصاف نے جو سفاکی اور بےحسی دکھائ وہ ہمیشہ تاریک انصاف کے ماتھے پر بدنماء داغ کی طرح لگی رہے گی ۔
جب سے تاریک انصاف کی حکومت قائم ہوئ تب سے اب تک ملک میں بسنے والے عام انسانوں کے لیے تاریک انصاف والوں نے صرف مسائل میں ہی اضافہ کیا ہے مہنگائ پہلے ہی بے قابو رہی اور وزیر خزانہ محترم اسد عمر صاحب نے قومی اسمبلی میں انتہائ خوبصورت جزباتی بجٹ تقریر فرما کر جس ذہانت سے اسحاق ڈار اور مفتاح اسماعیل کی پالیسوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پاکستانیوں پر ہوشرباء مہنگائ کا جو تبدیلی بم گرایا اس پر وہ یقیناً داد کے مستحق ہیں۔
آج ریڈیو پاکستان بکا ہے اس ادارے کے ہزاروں ملازمین کا معاشی قتل عام کیا گیا اور بڑی چالاکی ہوشیاری سے ان ملازمین کو جنھیں پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت نے اداروں میں شراکت داری دی تھی انھیں بے روزگار اور بے یارو مددگار کر دیا گیا ۔
پیارے پاکستانیوں ذرا سوچنا غور کرنا اور پھر آپکو تاریک انصاف کا جو جو عہددار یا نامزد(selected ) ایم پی اے یا ایم این اے اور وزیر موصوف ملے ان سے پوچھنا ضرور کہ کہاں گیا نیازی صاحب کا وہ سو دن والا پلان جسمیں انھوں نے ملک کی تقدیر سنوارنی تھی؟ اب کہاں ہے وہ بہت بہترین معاشی ماہرین کی ٹیم جسکی سربراہی اسد عمر صاحب کر رہے تھے کہ جنھوں نے سو روزہ انقلابی معاشی پلان ترتیب دے رکھا تھا؟؟اب کہاں گئ وہ خارجہ پالیسی جسکے تحت پاکستان کو بیرونی دنیا میں ایک بہترین اور خودمختار اسٹیٹ بنانا تھا؟
لیکن تاریک انصاف کو ان چیزوں سے کیا مطلب انھیں ملکی اداروں کے تقدس اور ریاست کے وقار سے واقفیت کہاں ہے؟ کیونکہ جو تاریک انصاف پاکستان ٹیلی ویژن پر حملہ کروا سکتی ہے ۔ قومی اسمبلی کو گالیاں دے سکتی ہے بجلی کے بل سر عام جلا کر ریاست اور عوام کے مابین جھگڑا پر اکساء سکتی ہے قوم کے نوجوانوں کو بے راہ روی کا شکار بناسکتی ہے وہ کیا جانے کہ ریاست کیا ہوتی ہے ادارہ کیا ہوتا ہے اور اداروں۔میں ملازمت کرنے والے لوگوں کی کیا اہمیت و افادیت ہوتی ہے۔
پیارے اور معصوم پاکستانیوں صرف اپنی آنکھیں ہی نہیں اپنی عقل و شعور کے دروازے بھی کھول کر رکھو اپنے اپنے من پسند لیڈروں سے پاکستان اور عوام سے متعلق سوال ضرور کیا کرو کیونکہ سوال کروگے تو جواب ملے گا اس سے آپکو اپنے قائدین کہ سیاسی بصیرت و سوچ سے بھی واقفیت ہو گی اور مسائل حل کرنے کے راستے بھی میسر ہونگے ۔
باشعور اور دوراندیش معاملہ فہم قیادت ہمیشہ ملکوں اور عوام کے بہترین مفاد میں اپنی پالیسیاں مرتب کرتی ہے بگڑے ہوئے حالات اور الجھے ہوئے معاملات کو سلجھانے کے لیے ہمیشہ مسائل کا حل تلاش کیا جاتا ہے اور بہتری کی طرف سفر کا آغاز کرنا پڑتا ہے قوموں کی زندگیوں میں مشکل اور کھٹن مراحل بھی آتے ہیں لیکن اسطرح سے لوگوں کو بے یارومددگار چھوڑنا انکےمعاشی مسائل میں اضافہ کرنا انھیں بےروزگاری کے ساتھ ساتھ معاشرتی برائیوں میں مبتلاء کرنا کسی اہل اور سمجھدار سیاسی قیادت کا وطیرہ نہیں ہوتا ایسے کام تو وہی کیا کرتے ہیں جو مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں سے عاری ہوتے ہیں مشکل حالات سے نظر چرانا دوراندیشی یا عقلمندی نہیں ہوتی ۔تاریک انصاف کی قیادت کے اگر یہی وطیرے رہے تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ حکومت پاکستان اور عوام کو بھی ٹھیکے پر نہ دے ڈالیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں