190

مولانا فضل الرحمن غدار؟

نوید مسعود ہاشمی
جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن کے خلاف بہاولپور کے ایک تھانے میں غداری کا مقدمہ درج کرلیا گیا … یہ خبر پڑھنے کے بعد اس خاکسار نے یہ سوچ کر سکھ کا سانس لیا کہ شکر ہے کہ ”مولانا” کے بارے میں بہاولپور والوں کو جلد پتہ چل گیا کہ وہ ”غدار” ہیں … ورنہ اگر دیر ہو جاتی اورمولانا خدانخواستہ ملک کے آئندہ کبھی وزیراعظم بن جاتے تو پھر کیا ہوتا؟
مولانا فضل الرحمن بینظیر بھٹو دور میں امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین رہے کئی مرتبہ پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بنائے گئے … ان کی پارٹی کے ”وفاق” میں کئی کئی وزراء رہے … کے پی کے اور بلوچستان میںان کی پارٹی حکومتوں میں شامل رہی’ مولانا فضل الرحمن نے کئی دفعہ اقوام متحدہ سمیت کئی بار بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا شرف بھی حاصل کیا۔
لال مسجد پر مسلط کردہ خونی آپریشن کے بعد …پاکستان خودکش حملہ آوروں کا مرکز بنا تو مولانا ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کا ساتھ دینے کی بجائے ریاست کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہے … جس پر انہیں ٹی ٹی پی نے ”غدار” قرار دیاتھا … شمالی وزیرستان ہو یا جنونی وزیرستان جب ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف بعض عناصرنے ”دین” کے نفاذ کے نام پر اسلحہ اٹھایا تو انہوں نے پاکستانی اداروں کا ساتھ دیتے ہوئے اسلام کے نام پر مسلح جدوجہد کرنے والوں کو خم ٹھونک کر مسترد کیا اور پھر اس پاداش میں کئی مرتبہ بدترین خودکش حملوں کا نشانہ بھی بنے … جس وقت ٹی ٹی پی والے لاکھوں دیوبندی نوجوانوں کو مختلف ”ایشوز” پر پاکستانی اداروں کے خلاف مسلح جدوجہد کی ترغیب دے کر گمراہ کرنے کی کوششیں کررہے تھے … تب یہی مولانا تھے کہ جنہوں نے صرف کراچی ‘ لاہور ‘ کوئٹہ یا اسلام آباد میں ہی نہیں بلکہ پشاور میں بھی علماء اور مذہبی کارکنوں کے اجتماعات’ سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کروا کر کھل کر یہ بات کہی کہ دیوبندیوں میں عسکریت پسندوں کے لئے کوئی جگہ نہیں … اسی کا نتیجہ تھا کہ پھر ان کی جماعت کے شیخ الحدیث مولانا حسن جان ہی نہیں بلکہ شیخ الحدیث مولانا نور محمد’ مولانا معراج الدین سے لے کر ڈاکٹر خالد محمود سومرو تک وطن پر نثار ہوگئے’ مگر مولانا نے دہشت گردوں کے سامنے جھکنا یا ان سے ڈیل کرنا گوارا نہ کیا۔
میں نہ مولانا کا ترجمان ہوں اور نہ ان کی سیاست سے متفق’ مگر مجھے مولانا کی ترجمانی کا اسٹیٹس انجوائے کرنے والوں پر حیرت ہوتی ہے’ ایسے لگتاہے کہ وہ گونگے اور بہرے ہیں … سال ہا سال سے مولانا کا نمک کھانے والے جب نمک کے حق ادا کرنے کا وقت آیا تو وہ یوں غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ غائب ہو جاتے ہیں … غداری کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد مولانا کو میڈیا کی اہمیت کا اندازہ تو ہی گیا ہوگا؟ اب تنہائی میں بیٹھ کر انہیں ضرور سوچنا چاہیے کہ ڈیڑھ دہائی سے بھی زائد عرصے تک حکومتوں کا اتحادی رہنے کے باوجود اگر وہ قومی میڈیا میں اپنے ہم ذہن بندے لانچ نہیںکرسکے تو کیوں؟
مولانا پر بعض مخصوص ا ینکرز اور ا ینکرینوں کا الزام ہے کہ انہوں نے 14 اگست کو آزادی کا جشن منانے سے انکار اور جدوجہد آزادی منانے کا اعلان کیا … لیکن ہم 14 اگست کے دن کو دیکھتے ہیں کہ جن دینی مدارس کو مولانا کی پاور قرار دیا جاتا ہے ان ہزاروں دینی مدارس میں … یوم آزادی کی خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا’ دینی مدارس میں مختلف جید علماء کرام نے نہ صرف یہ کہ پرچم کشائی کا فریضہ سرانجام دیا بلکہ طلباء نے قومی ترانہ اور ملی نغمے بھی پیش کیے… دارالعلوم کراچی میں تو شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کی زیرنگرانی طلباء نے باقاعدہ پریڈ کا اہتمام بھی کیا۔
وفاق المدارس کے ناظم اعلیٰ قاری حنیف جالندھری ہوں ‘ مفتی تقی عثمانی ہوں یا دیگر جید اکابر علماء سب نے یوم آزادی کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے … مشاہیر تحریک پاکستان اور 14 اگست1947 ء کے دن شہادت کا جام نوش کرنے والے برصغیر کے لاکھوں مسلمان ‘ ان سب کے لئے نہ صرف دعائے مغفرت کی گئی بلکہ انہیں زبردست خراج تحسین بھی پیش کیا گیا’ دینی مدارس میں منعقدہ یوم آزادی کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے جید علماء نے اپنے خطابات میں علماء اور طلباء پر زور دیا کہ پاکستان اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے اس لئے علماء و طلباء پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے لئے اپناکردار ادا کریں … پاکستان میںبے حیائی’ فحاشی’ عریانی’ کرپشن اور لوٹ مار کرنے والوں کے لئے کوئی جگہ نہیں … آزادی کے مکمل ثمرات حاصل کرنے اور ان برائیوں کے خاتمے کے لئے علماء جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ہاں البتہ 14 اگست کے دن دینی مدارس کے علماء و طلباء نے گاڑیوں کے سلنسر نکال کر اودہم نہیں مچایا … سبز ہلالی پرچم ہاتھوں میں تھام کر ڈسکو ڈانس نہیں کیا ‘ سڑکوں کو بلاک کرکے جشن آزادی کے نام پر عوام کو تنگ نہیں کیا’ شایدیہی وہ جرم ہے کہ جس کی وجہ سے سیکولرز اور لبرل میڈیا میں مولویوں کے ”جشن آزادی” کو سند قبولیت نہیں ملتی … میری دانست میں مولانا فضل الرحمن کو ”غداری” کے جرم میں آبپارہ چوک میں تختہ دار پر لٹکا دینا چاہیے اس لئے کہ نہ انہوں نے پرویز مشرف کی طرح کسی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکیوں کے ہاتھوں فروخت کرکے ڈالر کھرے کیے … اور نہ ہی جارج ڈبلیو بش کی شروع کردہ کروسیڈی جنگ کو پاکستان کی جنگ قرار دیا۔(وما توفیقی الا باللہ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں