377

مدارس و مساجد کے اساتذہ کرام۔ وہ جنہیں مزدور بھی نہیں مانا جاتا۔۔

‌ارض پاک میں کچھ محنت کش کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں ایک مزدور کے برابر اجرت بھی نہیں ملتی۔ان کی ڈیوٹی کے اوقات کسی مزدور سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ایک مزدور تو اپنی ذمہ داری پوری کرکے اجرت وصول کر پاتا ہے لیکن انہیں اپنے “مالکوں” کی بہت سی باتیں بھی سننی پڑتی ہیں. یوم مزدور پر کوئی بھی ان کے بارے میں بات نہیں کرتا۔میرا موضوع وہ قراء کرام اور مدارس کے اساتذہ کرام ہیں۔جن کے معاوضے مزدور کی کم سے کم تنخواہ سے بھی کہیں کم ہوتے ہیں۔گزشتہ دنوں ایک قاری صاحب کو کئی سال ایک ادارے میں پڑھانے کے بعد اس وجہ سے نکال دیا گیا کہ انہوں نے اپنی 8 ہزار تنخواہ میں کچھ اضافہ کی بات کی تھی۔یہ صرف ایک کہانی نہیں ہے آپ کو رمضان المبارک میں کئی مدارس کے اشتہار ملیں گے۔جن میں اساتذہ کرام کی تنخواہیں ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہوگی لاہور کے پوش ترین علاقے کے ایک دینی مدرسے میں استاد کو بارہ سے تیرہ ہزار معاوضہ دیا جاتا ہے۔جی ہاں اسی تنخواہ میں اسے نہ صرف اپنے خاندان کو پالنا ہوتا ہے بلکہ صحت تعلیم رہائش اور دیگر ضرورتوں کو بھی پورا کرنا ہوتا ہے۔ انہیں مزدور تسلیم نہیں کیا جاتا اور اسی لیے انہیں سوشل سیکیورٹی اور کسی بھی قسم کی سرکاری سہولیات بھی میسر نہیں ہوتیں۔ مدارس اور مساجد میں حفظ القران اور درس نظامی کے اساتذہ کرام کی تنخواہیں سرکاری طور پر مزدور کی کم سے کم تنخواہ کے برابر بھی نہیں ہوتیں۔یقین مانیں کے بعض جگہوں پر صرف آٹھ سے دس ہزار میں انہیں 24 گھنٹے کے لیے ملازم بنایا جاتا ہے۔حتیٰ کہ بعض “مالک حضرات” تو صفائی اور دیگر ذمہ داریاں بھی انہی سے پوری کراتے ہیں۔آج یوم مزدور ہے سب مزدوروں کی بات ہوگی لیکن کوئی بھی تعلیم القرآن اور حدیث سے منسلک ان محنت کشوں کی بات نہیں کرے گا جنہیں ارض پاکستان میں اپنے بنیادی حقوق تک میسر نہیں ہیں۔معاشرہ انہیں صرف “مستحق” کا مقام دیتا ہے اور کوئی بھی مالدار شخصیت یا انتظامیہ کے سیٹھ صاحب تنخواہ دیتے یا کوئی بھی چھوٹی سی بھی رقم عنایت کرتے وقت صدقہ و خیرات کی نیت ضرور کرلیتے ہیں۔ لاکھوں کے اخراجات اور پرشکوہ عمارتوں پر مشتمل مساجد و مدارس کے اساتذہ کرام زندگی کی گھڑیاں سسک سسک گزار رہے ہیں۔ انہیں معاشرے کے متوسط ترین بلکہ پست ترین طبقے کے طور پر زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ دوسروں کے بچوں کو قرآن و حدیث پڑھا کر ان کی زندگیاں سنوارنے والے خود اپنے بچوں کے لئے مناسب تعلیم کا بندوبست نہیں کر پاتے۔ کئی اداروں میں رہائش کا احسان کیا جاتا ہے لیکن وہ ایک کمرے یا یہ حجرے سے بڑھ کر نہیں ہوتی جس میں انھیں پوری فیملی سمیت گزارا کرنا ہوتا ہے۔ حکومت مزدوروں کے لئے کی مراعات کا اعلان کرتی ہے لیکن یہ سب ان تک نہیں پہنچ پاتا۔ شائد ہی کوئی مدرسہ مسجد یا دینی ادارہ ایسا ہو کہ جس نے حکومتی سوشل سکیورٹی کے اداروں میں اپنے استاذ کرام کہ رجسٹریشن کرائی ہو۔ کوئی بھی رجسٹر ادارہ سوشل سکیورٹی کے حکومتی اداروں کے ساتھ منسلک ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے اگر کوئی مشکلات بھی ہیں تو وفاق المدارس اور دینی جماعتوں کو اپناکرداراداکرناچاہئے تاکہ دین کی اشاعت و تبلیغ سے منسلک یہ لوگ معاشرے میں چند بنیادی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ان کے لئے بڑھاپے میں پینشن اور صحت رہائش و تعلیم سے متعلق دیگر سرکاری سہولیات مل سکیں۔دوسری طرف حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ دینی اداروں سے منسلک ان اساتذہ کرام کو بھی دیگر پرائیویٹ اداروں کی طرح سوشل ویلفئر کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے۔ تعلیم القرآن والحدیث سے منسلک ان عظیم لوگوں کو کم سے کم مزدور ہی تسلیم کرلیا جائے تاکہ وہ بھی سرکاری سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں