حکومتی کمیٹی کا مولانا فضل الرحمان کے بیان کیخلاف عدالت جانے کا اعلان

اسلام آباد(اے ایف بی) حکومت کی مذاکراتی کمیٹی نے وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کے بیان کےخلاف عدالت جانے کا اعلان کر دیا ہے ۔ہفتے کو حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی رہائش گاہ پر ہوا۔

حکومتی کمیٹی کا مولانا فضل الرحمان کے بیان کیخلاف عدالت جانے کا اعلان

اجلاس میں اپوزیشن کے دھرنے اور مطالبات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں مولانا فضل الرحمان کی جانب سے وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ مسترد کر دیا گیا۔اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا کہ اپوزیشن سے وزیراعظم کے استعفی پر کوئی بات نہیں ہوگی۔ اپوزیشن نے ایک معاہدہ کیا ہے اور آگے بڑھیں گے تو اپنے ہی کیے ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کریں گے، ہم نے معاہدہ کیا، اس پر کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گراو¿نڈ کا انتخاب اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے خود کیا تھا، ہم نے ان سے کہا تھا کہ گراو¿نڈ سے متعلق فیصلہ انتظامیہ کرے گی، ہمارے رہبر کمیٹی سے اب بھی رابطے ہیں لیکن گزشتہ روز جلسے میں جو تقریریں کی گئیں، اس پر ہمیں افسوس ہوا ہے۔

پرویزخٹک کا کہنا تھا کہ حکومت نے کھلے دل سے ان کو اسلام آباد آنے دیا، اب اگر یہ دھمکیاں دے رہے ہیں تو پھر یہ زبان کے کچے ہیں اور یہ معاہدے پر قائم نہیں رہتے تو پھر یقینا ایکشن لیا جائے گا، ہم نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے تو بتائیں ہم نے کیا خلاف ورزی کی؟ سچ کو سچ بتائیں تاکہ ملک میں افرا تفری کا ماحول نہ بنے۔ان کا کہنا ہے کہ آئی ایس پی آر نے بھی کہا کہ وہ جمہوری منتخب حکومت کے ساتھ ہوتے ہیں، اس دفعہ نیوٹرل ماحول میں انتخابات ہوئے یہ ہار گئے، ان کو اسی کی تکلیف ہے، اگر افراتفری پیدا ہو تو پھر ملک کے لیے اداروں کو آگے آنا ہوتا ہے۔سربراہ حکومتی کمیٹی کے مطابق پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہم مذہبی کارڈ کے استعمال کے خلاف ہیں لیکن کل مولانا صاحب نے کہا کہ وہ مذہبی کارڈ استعمال کریں گے، پیپلزپارٹی والے وہاں موجود تھے اور ہنس رہے تھے، ان کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ یہ اقتدار تک کیسے آئے تھے۔انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ 30 یا 40 ہزار لوگ آئیں اور تختہ الٹ دیں، ملک کے معاشی حالات خراب تھے اور کاروبار بند تھا جس پر سخت فیصلے کیے، مشکل حالات آتے ہیں، اب بہتری آرہی ہے، عمران خان کی محنت کی وجہ سے معاشی مشکلات ختم ہورہی ہیں، کشمیر پر جو عمران خان نے مقف لیا آج تک کوئی نہیں لے سکا، دنیا کے ہر فورم پر عمران خان نے کشمیر کی آواز اٹھائی۔پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ حکومت صرف عمران خان یا میں نہیں بلکہ تمام ادارے حکومت ہیں، یہ وقت نہیں، ان کے پاس ایسا کوئی مسئلہ یا ڈیمانڈ نہیں جس پر ہمیں فکر ہو، ان کی کوشش صرف یہ ہے کہ حکومت کو چلنے نہ دیا جائے کیوں کہ ان کو ڈر ہے کہ حکومت اپنی کارکردگی میں کامیاب نہ ہوجائے۔ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ آج کے اجلاس میں بہت سے امور پر متفقہ بات چیت ہوئی، ہم ابھی بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن یہ افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں، جس کے پیچھے ان کے مقاصد ہے۔دوران گفتگو انہوں نے بتایا کہ رہبر کمیٹی کے رکن اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنما اکرم درانی سے رابطے میں ہیں اور مذاکرات کے دروازے تاحال کھلے ہیں۔ساتھ ہی وزیردفاع نے کہا کہ ‘کل کی تقریروں میں زیادہ تنقید اداروں پر کی، یہ پاکستان کے ادارے ہیں، اداروں نے ملک کو بچایا، شہادتیں اور قربانیاں دیں، علاقہ غیر کو صاف کروایا، لہذا یہ سب کے ادارے ہیں اور انہیں ملک دشمنی نہیں کرنی چاہیے’۔انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ ایک ادارہ غیرجانبدار ہوا تو انہیں مسئلہ ہوا، ادارے غیرجانبدار کردار ادا کر رہے ہیں، ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں، جو ادارے ہوتے ہیں چاہے فوج ہو یا بیوروکریٹس یہ سب حکومت کے ساتھ ہوتے ہیں۔پرویز خٹک نے کہا کہ پہلی مرتبہ ادارہ غیر جابندار ہوا تو مسلم لیگ(ن)کو شکست ہوئی، شہباز شریف کو اپنے گریبان میں جھکانا چاہیے کیونکہ جنرل جیلانی کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔اپنی گفتگو کے دوران پرویز خٹک نے بتایا کہ کور کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے جو کہا کہ عوام جاکر عمران خان سے استعفی لیں گے، اس پر ہم عدالت جارہے ہیں کیونکہ یہ لوگوں کو اکسا رہے ہیں اور یہ بغاوت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کشمیر کاز ہمارا پہلا ایجنڈا ہے۔ ملک میں اس وقت غیر یقینی صورتحال کشمیر کاز پر نہیں آنی چاہیے۔ کشمیر کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے جتنا سٹینڈ لیا اتنا کسی نے نہیں لیا، انہوں نے اقوام متحدہ میں شاندار تقریر کی، کشمیر کمیٹی کے سربراہ جے یو آئی(ف) کے امیر مولانا چیئر مین رہے تو میں ان سے پوچھتا ہوں انہوں نے کیا کیا۔حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن والوں نے حکومت پر کم اداروں پر تنقید کی ہے، اس کا جواب پاک فوج کی طرف سے آ گیا ہے، پاک فوج نے ملک کے لیے جانیں قربانیاں دیں اور امن لائے۔ علاقہ غیر کو صاف کرنا، کے پی کے میں امن لانا اور ملک میں امن لانا پاک فوج کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ میاں شہباز شریف کہتے ہیں ادارے 10 فیصد ہمارے ساتھ دیتے تو مسائل حل کر لیتے تو ان کو کہنا چاہتا ہوں میاں نواز شریف کن اداروں کے سہارے آئے ۔اب ادارے غیر سیاسی ہو گئے ہیں، ہمیں کوئی بھی ادارہ نہیں سپورٹ کر رہا۔ تمام ادارے ریاست کے حصہ ہیں۔الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ہم بھی یہی کہتے تھے، ہم الیکشن کمیشن گئے، عدالت گئے، سپریم کورٹ گئے جس پر ہمیں کوئی انصاف نہیں ملا تو ہم نے دھرنا دیا، موجودہ اپوزیشن نے دھاندلی کے نام پر صرف باتیں کیں، میں حکومت کی طرف سے قائم کمیٹی کا سربراہ ہوں میں کہتا ہوں یہ مجھے ثبوت دیں، دھاندلی کے بارے میں مجھے بتائیں لیکن یہ ثبوت دینے کا نام نہیں لے رہے۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے جے یو آئی(ف)کے امیر مولانا فضل الرحمن کو الیکشن میں ایک مرتبہ چیلنج کیا ہے، مولانا صاحب کو ان کو جواب دینا چاہیے۔دوران پریس کانفرنس سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف کو مخاطب کرکے سوال اٹھایا کہ وہ بتائیں کہ فوج نے انہیں پولیسنگ، کچہری، تعلیمی اداروں کے نظام کو ٹھیک کرنے سے روکا تھا؟۔ قانون حرکت میں آیا تو ان کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر انہوں نے معاہدہ نہ کیا ہوتا تو جو مرضی کرتے، لیکن معاہدے پر انہیں قائم رہنا چاہیے۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ میں لبرل بلاول بھٹو زرداری کو کہنا چاہتا ہوں کہ پیپلز پارٹی کے دور میں پہلے سال افراط زر 20 فیصد تھی، مسلم لیگ ن کے دور میں پہلے سال افراط زر 11 فیصد تھی، یہ لوگ جو بات کرتے ہیں تو ان کو پہلے اپنا ماضی یاد رکھ لینا چاہیے۔اسد عمر نے کہا کہ اپوزیشن کو گلہ اس بات کا ہے فوج نے انکی چوری کو نہیں بچایا، مولانا کا اداروں سے متعلق بیان بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ کشمیر کاز پر وزیراعظم عمران خان نے بہت زیادہ متحرک اپنا کردار ادا کیا ہے، جب سے اپوزیشن والے احتجاج کر رہے ہیں کشمیر پر دھیان ہٹ گیا ہے، اس کا فائدہ ہمارے دشمن کو ہو رہا ہے، بھارتی میڈیا اس احتجاج کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے چار حلقے کھولنا کا مطالبہ کیا تھا، پھر ہم احتجاج کی طرف آئے تھے۔ ان لوگوں کا ایجنڈا غیر واضح ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں